اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراقی پارلیمنٹ کی رکن نے گزشتہ روز سوشل میڈیا فیسبوک کے اپنے مخصوص صفحے پر لکھا کہ امریکہ ایک لاکھ غیر ملکی فوج عراق میں بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
’’حنان الفتلاوی‘‘ نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا: امریکہ کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ نے ایک لاکھ زمینی فوج عراق میں بھیجنے کے لیے عراقی حکومت سے توافق کر لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ خبر ایسے حال میں سامنے آئی ہے کہ حیدر العبادی اور ان کے دفتر کے ترجمان اس خبر کی تردید کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہمیں عراق میں غیر ملکی زمینی فوج کی ضرورت نہیں ہے۔
عراق کی پارلیمنٹ کے نمائندے نے مزید لکھا: ’’جان مکین‘‘ نے عراق کے وزیر اعظم کے ساتھ 27 دسمبر کو ایک میٹنگ کی جس میں عراق کے وزیر دفاع، فوج کے نائب رئیس اور سکیورٹی ادارے کے نمائندے بھی موجود تھے اس نشست میں جان مکین نے حیدر العبادی کو امریکہ کے اس منصوبے سے آگاہ کیا کہ امریکہ ایک لاکھ غیر ملکی زمینی فوج کو داعش کا مقابلہ کرنے کی غرض سے عراق بھیجنا چاہتا ہے۔
جان مکین نے حیدر العبادی کو اس خبر سے مطلع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس کام کا حکم صادر ہو چکا ہے، حیدر العبادی نے اس خبر کو سن کا ناراضگی کا اظہار کیا۔
الفتلاوی نے کہا: 90 ہزار فوجی عربی ممالک منجملہ خلیجی ممالک، سعودی عرب، قطر امارات اور اردن کے ہوں گے جبکہ 10 ہزار فوجیوں کا تعلق امریکہ سے ہو گا جو عراق میں داعش کا مقابلہ کرنے کی غرض سے اس ملک میں بھیجے جائیں گے۔
واضح رہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے 8 دسمبر کو کہا تھا: امریکہ نے عراقی حکومت کو اس منصوبے سے آگاہ کر دیا ہے کہ وہ خصوصی فوج اس ملک میں بھیجے گا۔
جان کیری کی اس گفتگو کے بعد امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک لاکھ سپاہیوں کے عراق میں بھیجے جانے کی اطلاع دی تھی۔
جان کیری کے اس بیان کے بعد عراقی حکومت نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عراق ان ممالک جو داعش کا مقابلہ کرنے میں ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں سے اسلحہ اور دیگر جنگی امداد حاصل کرنے کو تیار ہے لیکن اسے انسانی مدد کی ضرورت نہیں چونکہ عراق میں قوی الارادہ اور قوی الجثہ افراد موجود ہیں جو داعش کو شکست دے سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲